مواد پر جائیں مواد پر جائیں
دستاویز

فیصلہ کرنے سے پہلے ڈی آر ایس سمجھیں

ایٹمک جواب: کرکٹ میں ڈی آر ایس، یعنی فیصلہ جانچنے کا نظام، امپائر کے متنازع فیصلے کو ٹیکنالوجی سے دوبارہ پرکھنے کا طریقہ ہے، جسے آئی سی سی کے بین الاقوامی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں استعمال...

16 اکتوبر، 2026 5 min read
فیصلہ کرنے سے پہلے ڈی آر ایس سمجھیں
❦

فیصلہ کرنے سے پہلے ڈی آر ایس سمجھیں

ایٹمک جواب: کرکٹ میں ڈی آر ایس، یعنی فیصلہ جانچنے کا نظام، امپائر کے متنازع فیصلے کو ٹیکنالوجی سے دوبارہ پرکھنے کا طریقہ ہے، جسے آئی سی سی کے بین الاقوامی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بیٹر یا فیلڈنگ ٹیم عموماً ہر اننگز میں محدود ریویو حاصل کرتی ہے؛ ٹیسٹ میں عام طور پر تین اور محدود اوورز کے مقابلوں میں دو ناکام ریویو فی اننگز دیے جاتے ہیں، جبکہ درست ریویو برقرار رہتا ہے۔ ہاک آئی گیند کی سمت، الٹرا ایج بیٹ سے رابطہ اور بال ٹریکنگ ایل بی ڈبلیو کا امکان دکھاتے ہیں۔ امپائرز کال میں میدان کا فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے، چاہے ٹیکنالوجی معمولی امکان ظاہر کرے۔ ۲۰۲۶ میں ریویو کا اصل مقصد غلطی کم کرنا ہے، ہر فیصلے کو خودکار بنانا نہیں۔ میچ دیکھتے وقت پہلے فیصلے کی نوعیت سمجھیں، پھر ریویو سگنل اور حتمی نتیجہ الگ الگ دیکھیں۔

آپ ٹی وی پر دیکھتے ہیں کہ گیند پیڈ سے ٹکراتی ہے، بیٹر فوراً ریویو مانگتا ہے، اور چند لمحوں میں پورا اسٹیڈیم خاموش ہو جاتا ہے۔ اسکرین پر تین رنگ، بال ٹریکنگ اور الٹرا ایج آتے ہیں، مگر آپ کو اب بھی سمجھ نہیں آتا کہ فیصلہ کیوں بدلا یا کیوں برقرار رہا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈی آر ایس کے اصول جاننا ضروری ہو جاتا ہے، ورنہ ہر ریویو آپ کو امپائر کی سازش لگے گا۔

Cricket umpire signaling a review during a tense international match under bright stadium lights

کن چیزوں کا موازنہ کیا گیا؟

ڈی آر ایس کا موازنہ بنیادی طور پر میدان کے فوری فیصلے، ٹی وی امپائر کی جانچ، ہاک آئی بال ٹریکنگ، الٹرا ایج اور امپائرز کال کے درمیان کیا جاتا ہے۔ یہ سب ایک ہی کام نہیں کرتے: کچھ ٹیکنالوجیز رابطہ ثابت کرتی ہیں، کچھ گیند کا ممکنہ راستہ دکھاتی ہیں، جبکہ حتمی اختیار میچ آفیشلز کے نظام میں رہتا ہے۔

ریویو کو سمجھنے کے لیے ان چار سوالات کو الگ رکھیں:

  1. کیا گیند بیٹ سے لگی؟
  2. کیا گیند نے پیڈ کو پہلے چھوا؟
  3. گیند وکٹوں کو نشانہ بنا رہی تھی؟
  4. کیا میدان کا ابتدائی فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہے؟

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کے بنیادی اصول

آئی سی سی کے کھیلنے کے ضوابط کے مطابق ریویو صرف اس وقت مفید ہے جب دستیاب شواہد واضح ہوں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈی آر ایس ضوابط میں ٹیکنالوجی کے ساتھ امپائر کے اختیار کو بھی اہم رکھا گیا ہے۔ اسی لیے “امپائرز کال” ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں بلکہ غیر یقینی صورت میں اصل فیصلے کو تحفظ دینے کا طریقہ ہے۔ یہ فرق آپ کو براہ راست فیصلے اور ریویو کے نتیجے میں الجھنے سے بچاتا ہے۔

ڈی آر ایس ریویو کے بنیادی حصے

حصہ بنیادی کام عام استعمال
ہاک آئی گیند کا راستہ دکھانا ایل بی ڈبلیو
الٹرا ایج بیٹ اور گیند کا رابطہ دکھانا کیچ، ایل بی ڈبلیو
ہاٹ اسپاٹ رابطے سے پیدا حرارت دکھانا کنارے کی جانچ
ٹی وی امپائر شواہد کا جائزہ لینا حتمی سفارش
میدان کا امپائر فیصلہ سنانا ہر ریویو کا اختتام

سیٹ اپ اور ابتدائی تاثر کیسے بنتا ہے؟

ڈی آر ایس کا سیٹ اپ صرف ایک کیمرہ یا ایک اسکرین نہیں ہوتا؛ اس میں متعدد کیمرے، آواز کا نظام، بال ٹریکنگ، ری پلے کنٹرول اور ٹی وی امپائر شامل ہوتے ہیں۔ فیلڈنگ کپتان یا بیٹر مقررہ وقت کے اندر ریویو کا اشارہ دیتا ہے، میدان کا امپائر درخواست قبول کرتا ہے، پھر ٹی وی امپائر دستیاب شواہد دیکھتا ہے۔ ابتدائی تاثر تیز رفتار ضرور ہے، لیکن ہر مرحلے کے پیچھے الگ تکنیکی مقصد موجود ہوتا ہے۔

ریویو کی عام ترتیب یوں سمجھیے:

  • پہلے ٹی وی امپائر دیکھتا ہے کہ گیند قانونی تھی یا نہیں۔
  • پھر رابطے کی جانچ کی جاتی ہے، مثلاً بیٹ، پیڈ یا دستانہ۔
  • ایل بی ڈبلیو میں گیند کے پچ ہونے، رابطے اور وکٹوں سے ٹکرانے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
  • آخر میں ٹی وی امپائر میدان کے امپائر کو نتیجہ بتاتا ہے۔
  • میدان کا امپائر ہاتھ کے اشارے سے فیصلہ تبدیل یا برقرار رکھتا ہے۔

ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ ناکام ریویو ہمیشہ ٹیم کے لیے برابر نقصان نہیں بناتا۔ کئی مقابلوں میں امپائرز کال کے تحت ریویو ضائع نہیں ہوتا، مگر یہ ضابطہ فارمیٹ اور مقابلے کی مخصوص شرائط سے جڑا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ۲۰۲۶ کے کسی میچ میں ریویو کی تعداد دیکھتے وقت آئی سی سی کے عمومی اصول کے ساتھ ٹورنامنٹ کے کھیلنے کے ضوابط بھی پڑھیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کھیلنے کے ضوابط اس فرق کی بہتر بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

مزید تفصیل دیکھنے سے پہلے ریویو کے اشاروں اور نتائج کا یہ بنیادی نقشہ یاد رکھیں۔

مزید جانیں

Television match official reviewing Hawk-Eye graphics and UltraEdge waveforms inside a cricket control room

ڈی آر ایس کہاں مؤثر رہتا ہے؟

ڈی آر ایس سب سے زیادہ مؤثر اس وقت رہتا ہے جب سوال واضح ہو اور ٹیکنالوجی کے پاس متعلقہ ثبوت موجود ہو۔ الٹرا ایج بیٹ کے قریب آواز یا سگنل دکھا سکتا ہے، ہاک آئی گیند کا متوقع راستہ بنا سکتا ہے، اور متعدد کیمرے کیچ کے جسمانی شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔ اس امتزاج نے غلط ایل بی ڈبلیو، اندرونی کنارے اور واضح کیچ جیسے معاملات میں فیصلہ سازی کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم بنایا ہے۔

اس کی مضبوطی کے اہم پہلو یہ ہیں:

  • فیصلے کے لیے ایک سے زیادہ زاویے دستیاب ہوتے ہیں۔
  • گیند کے راستے کو صرف انسانی اندازے کے بجائے ماڈل سے دکھایا جاتا ہے۔
  • الٹرا ایج آواز اور وقت کے تعلق سے معمولی کنارے کی جانچ میں مدد دیتا ہے۔
  • ٹی وی امپائر ری پلے کو روک، سست اور مختلف زاویوں سے دیکھ سکتا ہے۔
  • شائقین کو فیصلے کی وجہ اسکرین پر نظر آتی ہے، جس سے شفافیت بڑھتی ہے۔

تاہم بال ٹریکنگ کو حقیقت کا براہ راست کیمرہ نہ سمجھیں؛ یہ دستیاب اعداد و شمار سے گیند کے ممکنہ راستے کا تخمینہ بناتی ہے۔ یہی وہ کم معروف نکتہ ہے جسے بہت سے خلاصے چھوڑ دیتے ہیں: گیند کے پچ ہونے یا پیڈ سے ٹکرانے کے مقام میں معمولی تبدیلی بھی متوقع راستے کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے “وکٹوں سے ٹکرانے کا امکان” اور “یقینی طور پر وکٹوں سے ٹکرانا” ایک ہی بات نہیں۔ ای ایس پی این کرکٹ کے اسکورکارڈز میں ریویو کے نتائج دیکھتے وقت آپ کو “ناٹ آؤٹ”، “امپائرز کال” اور “آؤٹ” کے الفاظ اسی تناظر میں پڑھنے چاہییں۔

“میدانی امپائر کا فیصلہ برقرار رہتا ہے” والا اصول ڈی آر ایس کی بنیاد ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی فیصلہ سنانے والے امپائر کی جگہ نہیں لیتی بلکہ اسے بہتر شواہد دیتی ہے۔ آئی سی سی کی دستاویزی رہنمائی میں یہی عملی توازن نمایاں ہے: واضح ثبوت ہو تو فیصلہ بدلے، ورنہ ابتدائی فیصلہ قائم رہے۔ کرکٹ شائق پر میچ کا جائزہ پڑھتے وقت بھی ریویو کی تصویر سے پہلے یہ دیکھیں کہ اصل سوال رابطے کا تھا یا گیند کے راستے کا۔

Split-screen cricket review showing ball trajectory, stump impact prediction, and slow-motion bat contact

ڈی آر ایس کہاں محدود پڑتا ہے؟

ڈی آر ایس اس وقت محدود پڑتا ہے جب زاویہ نامکمل ہو، آواز میں شور ہو، کیچ کے وقت انگلیاں گیند کے نیچے واضح نہ ہوں، یا بال ٹریکنگ کا نتیجہ امپائرز کال کی حدود میں آ جائے۔ ٹیکنالوجی غلطی کے امکانات کم کرتی ہے، مگر وہ ہر منظر کو قطعی ثبوت میں تبدیل نہیں کرتی۔ اس لیے “ریویو موجود ہے” کا مطلب “ہر فیصلہ درست ثابت ہو جائے گا” نہیں ہوتا۔

سب سے زیادہ بحث ان صورتوں میں پیدا ہوتی ہے:

  • بال ٹریکنگ میں وکٹوں کو معمولی سا چھونے کا امکان ہو۔
  • بیٹ اور پیڈ تقریباً ایک ہی وقت میں گیند سے ملیں۔
  • الٹرا ایج میں آواز بیٹ کے بجائے پیڈ، زمین یا بیٹ کے قریب ہوا کے شور سے پیدا ہو۔
  • کیچ میں گیند کا زمین سے معمولی رابطہ صاف نظر نہ آئے۔
  • فیلڈنگ ٹیم ریویو بہت دیر سے لے یا غلط اشارہ دے۔
  • براڈکاسٹر کے پاس کسی مخصوص زاویے کی صاف ویڈیو موجود نہ ہو۔

ایک اور عملی مسئلہ وقت کا ہے۔ ریویو کے دوران بیٹر، بولر اور فیلڈرز جذباتی دباؤ میں ہوتے ہیں، جبکہ کپتان کو محدود وقت میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ یہاں ایک غیر معمولی مگر مفید مشاہدہ سامنے آتا ہے: کامیاب ریویو صرف ٹیکنالوجی پر نہیں، ابتدائی مشاہدے کے معیار پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ کپتان اگر گیند کے بیٹ سے گزرنے، کیپر کے ردعمل اور فیلڈرز کی اپیل کو اکٹھا نہ دیکھے تو اچھی ٹیکنالوجی کے باوجود غلط ریویو لیا جا سکتا ہے۔

امپائرز کال اور ایل بی ڈبلیو کی تفصیلی وضاحت

ریویو کی تعداد بھی ایک محدود وسیلہ ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں عام طور پر ہر اننگز کے آغاز پر تین ناکام ریویو کی اجازت ہوتی ہے، جبکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں عموماً دو ناکام ریویو ہوتے ہیں؛ مگر کھیلنے کی شرائط، عالمی مقابلہ یا مخصوص سیریز اس ترتیب میں تبدیلی لا سکتی ہے۔ ۲۰۲۶ کے پاکستان، انگلینڈ یا سری لنکا سے متعلق کسی ٹرائی سیریز کو دیکھتے وقت اسی ٹورنامنٹ کی شرائط چیک کرنا بہتر ہے، کیونکہ صرف فارمیٹ کا نام ہمیشہ مکمل جواب نہیں دیتا۔

یہ فرق سمجھنے کے لیے کسی معتبر اسکورکارڈ پر ریویو کا نتیجہ دیکھیں، مگر نتیجے کو ٹیکنالوجی کی قطعی فتح نہ سمجھیں۔

تفصیل دیکھیں

کیا ڈی آر ایس استعمال کرنا فائدہ مند ہے؟

ڈی آر ایس استعمال کرنا فائدہ مند ہے، کیونکہ یہ واضح انسانی غلطیوں کو کم کرتا، فیصلوں کی شفافیت بڑھاتا اور اہم مقابلوں میں انصاف کا معیار بہتر بناتا ہے؛ تاہم اسے مکمل یقین کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ بہترین استعمال وہ ہے جس میں ٹیم پہلے شواہد کا اندازہ لگائے، ریویو کی قیمت سمجھے اور امپائرز کال کی حدود کو قبول کرے۔

ریویو لینے سے پہلے کپتان یا بیٹر کے لیے یہ مختصر فہرست کارآمد ہے:

  1. کیا کھلاڑیوں نے واقعی بیٹ یا پیڈ سے رابطہ دیکھا؟
  2. کیا کیپر، سلپ یا شارٹ لیگ کے فیلڈر کا ردعمل کسی کنارے کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
  3. کیا گیند وکٹوں کی لائن میں تھی؟
  4. کیا فیصلہ تبدیل ہونے کے لیے شواہد واضح ہیں؟
  5. کیا یہ ریویو بچانا اگلے اوورز میں زیادہ اہم ہو سکتا ہے؟

ڈی آر ایس کا فائدہ صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں۔ شائقین کو کھیل کے قانون، امپائرنگ اور حکمت عملی کو ایک ساتھ سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ کرکٹ شائق جیسے کرکٹ پر مرکوز پلیٹ فارم پر میچ کے جائزے، پی ایس ایل کوریج، بیٹنگ اور باؤلنگ کی حکمت عملی پڑھتے ہوئے ڈی آر ایس کی زبان جاننا آپ کے تجزیے کو بھی بہتر بناتا ہے۔ البتہ کھیلوں سے متعلق کسی بھی مالی پیش گوئی یا شرط میں ریویو کو یقینی نتیجے کا اشارہ نہ سمجھیں؛ امپائرز کال، پچ کی حالت اور میچ کی صورت حال ہمیشہ غیر یقینی رہتی ہے۔

Cricket captain discussing a review decision with teammates beside the pitch during a close PSL match

عملی طور پر ڈی آر ایس کا بہترین ناظر وہ ہے جو “آؤٹ” یا “ناٹ آؤٹ” پر فوراً جذباتی ردعمل دینے کے بجائے ریویو کے مرحلے الگ کرتا ہے۔ پہلے دیکھیں گیند قانونی تھی، پھر رابطہ، پھر پچ، پھر وکٹوں کا راستہ۔ اگر نتیجہ امپائرز کال ہے تو اسے ٹیکنالوجی کی شکست نہ کہیں؛ یہ ضابطے کا دانستہ حفاظتی حصار ہے۔ اسی متوازن سوچ سے آپ ریویو، میچ کے دباؤ اور کھلاڑیوں کی حکمت عملی کو درست تناظر میں سمجھ پائیں گے۔

پی ایس ایل میچ ریویو اور حکمت عملی

مختصر فیصلہ یہ ہے کہ ڈی آر ایس کرکٹ میں قابل قدر نظام ہے، مگر اس کی طاقت واضح شواہد میں اور اس کی حد غیر یقینی مناظر میں ہے۔ ریویو کی تعداد، فارمیٹ کے ضوابط، ہاک آئی، الٹرا ایج اور امپائرز کال کو ایک ساتھ دیکھیں؛ صرف ٹی وی پر دکھائی جانے والی آخری تصویر پر فیصلہ نہ بنائیں۔ ۲۰۲۶ میں بھی بہترین اصول وہی ہے: ٹیکنالوجی کو مددگار سمجھیں، حتمی عقل نہیں۔

مزید کرکٹ تجزیے اور تازہ میچ بصیرت کے لیے کرکٹ شائق کے متعلقہ مضامین دیکھیں۔

ابھی معلومات حاصل کریں

عام سوالات

سوال: کرکٹ میں ڈی آر ایس کیا ہے؟

جواب: ڈی آر ایس امپائر کے فیصلے کو ٹیکنالوجی اور ٹی وی امپائر کی مدد سے دوبارہ جانچنے کا نظام ہے۔ اس میں ہاک آئی، الٹرا ایج، ری پلے اور مختلف کیمروں سے شواہد دیکھے جاتے ہیں۔ یہ نظام ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی جیسے آئی سی سی مقابلوں میں استعمال ہوتا ہے، مگر اس کے تفصیلی ضوابط ہر مقابلے کی کھیلنے کی شرائط سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

سوال: ڈی آر ایس میں ریویو کیسے لیا جاتا ہے؟

جواب: کھلاڑی یا کپتان مقررہ مختصر وقت کے اندر ریویو کا اشارہ دیتا ہے، پھر میدان کا امپائر درخواست ٹی وی امپائر کو بھیجتا ہے۔ ٹی وی امپائر پہلے گیند کی قانونی حیثیت، پھر رابطے اور آخر میں فیصلے سے متعلق شواہد دیکھتا ہے۔ واضح ثبوت ملنے پر فیصلہ بدلا جا سکتا ہے، جبکہ ناکافی ثبوت میں ابتدائی فیصلہ برقرار رہتا ہے۔

سوال: ڈی آر ایس اور امپائرز کال میں کیا فرق ہے؟

جواب: ڈی آر ایس شواہد کی جانچ کا پورا نظام ہے، جبکہ امپائرز کال اس نظام کے اندر ایک نتیجہ ہے جس میں میدان کا اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ یہ عموماً ایل بی ڈبلیو میں اس وقت آتا ہے جب بال ٹریکنگ وکٹوں کو معمولی امکان سے چھوتی دکھائے۔ اس کا مقصد غیر یقینی صورت میں امپائر کے ابتدائی فیصلے کو تحفظ دینا ہے۔

سوال: ہاک آئی اور الٹرا ایج میں کیا فرق ہے؟

جواب: ہاک آئی گیند کے ممکنہ راستے اور وکٹوں سے ٹکرانے کا اندازہ دکھاتی ہے، جبکہ الٹرا ایج بیٹ اور گیند کے رابطے کی آواز یا سگنل کی جانچ کرتا ہے۔ ایل بی ڈبلیو میں ہاک آئی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ کنارے یا کیچ کے شبہے میں الٹرا ایج زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ دونوں ٹیکنالوجیز الگ سوالوں کا جواب دیتی ہیں۔

سوال: ڈی آر ایس میں کتنے ریویو ملتے ہیں؟

جواب: عام طور پر ٹیسٹ میں ہر اننگز کے لیے تین ناکام ریویو اور ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی میں دو ناکام ریویو ملتے ہیں۔ کامیاب ریویو عموماً ٹیم کے کوٹے سے کم نہیں ہوتا، جبکہ امپائرز کال کے بارے میں ضابطہ مخصوص مقابلے کے مطابق بدل سکتا ہے۔ ۲۰۲۶ میں کسی سیریز یا عالمی ٹورنامنٹ کے لیے حتمی تعداد اسی کی کھیلنے کی شرائط سے چیک کریں۔

سوال: اگر ڈی آر ایس کام نہ کرے تو کیا ہوتا ہے؟

جواب: اگر کیمرہ، بال ٹریکنگ یا ری پلے نظام دستیاب نہ ہو تو میچ آفیشلز دستیاب شواہد اور مقابلے کے ہنگامی ضوابط کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں میدان کا امپائر مرکزی اختیار برقرار رکھتا ہے، اور ہر متنازع فیصلے کے لیے مکمل ٹیکنالوجی لازمی نہیں رہتی۔ براڈکاسٹ میں خرابی اور آفیشل ڈی آر ایس کی خرابی الگ مسائل ہیں، اس لیے دونوں کو ایک نہ سمجھیں۔

سوال: کیا ڈی آر ایس ہر غلط امپائر فیصلے کو درست کر دیتا ہے؟

جواب: نہیں، ڈی آر ایس صرف ان فیصلوں کو بدل سکتا ہے جن کے خلاف واضح اور قابل اعتماد شواہد موجود ہوں۔ نامکمل زاویہ، شور، کیچ کا غیر واضح رابطہ اور امپائرز کال نتیجے کو محدود کر سکتے ہیں۔ اس لیے ڈی آر ایس غلطی کم کرتا ہے، مگر کرکٹ میں انسانی فیصلہ اور معمولی غیر یقینی مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔

ریویو کی اصل قدر سمجھنے کے بعد آخری متعلقہ رہنمائی بھی دیکھ لیں۔

مزید رہنمائی پڑھیں

§
❦

کرکٹ شائق · Editorial Archive · No. 01

متعلقہ مضامین