مواد پر جائیں مواد پر جائیں
دستاویز

۳ اسکور فارمیٹس کا موازنہ: نتیجہ صاف

کرکٹ اسکور سمجھنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ رنز، وکٹیں، اوورز اور مطلوبہ ہدف کو ایک ساتھ پڑھا جائے۔ کرکٹ شائق پاکستان، بھارت، افغانستان اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکورکارڈ....

23 اکتوبر، 2026 5 min read
۳ اسکور فارمیٹس کا موازنہ: نتیجہ صاف
❦

۳ اسکور فارمیٹس کا موازنہ: نتیجہ صاف

کرکٹ اسکور سمجھنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ رنز، وکٹیں، اوورز اور مطلوبہ ہدف کو ایک ساتھ پڑھا جائے۔ کرکٹ شائق پاکستان، بھارت، افغانستان اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکورکارڈ کی سادہ تشریح پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ۱۶۷/۳ کا مطلب ہے کہ ٹیم نے ۱۶۷ رنز بنائے اور ۳ وکٹیں گنوائیں، جبکہ ۱۰ اوورز میں ۸۵/۲ کا مطلب ۸۵ رنز، ۲ وکٹیں اور ۱۰ اوورز مکمل ہونا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں عموماً ۲۰ اوورز، ون ڈے میں ۵۰ اوورز اور ٹیسٹ میں فی ٹیم دو اننگز ہوتی ہیں۔ رن ریٹ رنز کو اوورز سے تقسیم کرکے نکالا جاتا ہے؛ ۱۲۰ رنز ۱۵ اوورز میں ہوں تو شرح ۸ رنز فی اوور ہے۔ اسکور دیکھتے وقت پہلے فارمیٹ، پھر ہدف، وکٹیں اور باقی اوورز نوٹ کریں۔

پاکستانی کرکٹ اسکور بورڈ اسٹیڈیم میں روشن، کھلاڑی میدان میں دباؤ بھرے تعاقب کے دوران

کرکٹ اسکور صرف بڑی تعداد کا نام نہیں؛ یہ میچ کی سمت، بیٹنگ کی رفتار اور دباؤ کی پوری کہانی بتاتا ہے۔ نیچے دیا گیا تقابلی خاکہ آپ کو فوراً سمجھا دے گا کہ کون سا خانہ کس کام آتا ہے، پھر ہر فارمیٹ کو الگ زاویے سے دیکھیں گے۔ بس ایک بات یاد رکھیں، نوآموز لوگ اکثر ۱۷۰ رنز دیکھ کر خوش یا پریشان ہوجاتے ہیں، حالانکہ پچ، موسم، وکٹیں اور باقی اوورز کے بغیر یہ عدد ادھورا ہے۔ ابتدائی کرکٹ قوانین کی مکمل رہنمائی میں بھی بنیادی اصطلاحات اسی ترتیب سے سمجھائی گئی ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مطابق میچ کی صورت حال سمجھنے کے لیے اسکور کے ساتھ اوورز اور وکٹوں کی حالت دیکھنا ضروری ہے؛ اسی لیے صرف مجموعی رنز پر فیصلہ کرنا جلد بازی ہے۔ پہلے ہدف معلوم کریں، پھر دونوں ٹیموں کے رن ریٹ کا موازنہ کریں، اور آخر میں وکٹوں کو خطرے کا پیمانہ سمجھیں۔

مزید بنیادی مثالیں دیکھنے کے لیے یہ رہنمائی کھولیں۔

مزید جانیں

فوری موازنہ: کون سا اسکور کیا بتاتا ہے؟

فارمیٹ عام اوورز یا اننگز اسکور پڑھنے کا مرکزی نکتہ اہم اضافی عدد
ٹیسٹ ۵ دن، فی ٹیم ۲ اننگز مجموعی رنز، اننگز اور برتری فالو آن، برتری
ون ڈے فی ٹیم ۵۰ اوورز ہدف، باقی گیندیں اور وکٹیں مطلوبہ رن ریٹ
ٹی ٹوئنٹی فی ٹیم ۲۰ اوورز تیز رفتار رنز اور آخری اوورز گیند بہ گیند شرح

یہ جدول ابتدائی فرق واضح کرتا ہے، مگر مکمل اسکورکارڈ میں کئی چھوٹے اشارے چھپے ہوتے ہیں۔ ۲۴۰/۷ کو ۵۰ اوورز کے اختتام پر دیکھیں تو ٹیم نے قابلِ دفاع مجموعہ بنایا ہوسکتا ہے، لیکن یہی ۲۴۰/۷ اگر ۳۵ اوورز میں ہو تو بیٹنگ ٹیم کے پاس مزید حملے کا اچھا موقع ہے۔ اسی طرح ۱۸۰ کا ٹی ٹوئنٹی ہدف لاہور، دبئی یا ڈھاکا کی مختلف پچوں پر یکساں مشکل نہیں ہوتا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے اسکورکارڈ میں عموماً گیندوں کی تعداد، چوکے، چھکے، شراکت اور بولر کے اوور الگ درج ہوتے ہیں؛ ان خانوں کو چھوڑنا عام غلطی ہے۔ ایک مفید عملی اشارہ یہ ہے کہ اگر مطلوبہ رن ریٹ موجودہ رن ریٹ سے دو رنز فی اوور زیادہ ہو، تو صرف ایک وکٹ باقی ہونے کی صورت میں تعاقب نمایاں طور پر مشکل ہوجاتا ہے، چاہے ہدف بظاہر چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

پہلا مرحلہ: رنز اور وکٹیں کیسے پڑھیں؟

رنز اور وکٹیں اسکورکارڈ کا بنیادی جواب دیتے ہیں: ٹیم نے کتنا بنایا اور کتنے بیٹر آؤٹ ہوئے۔ مثال کے طور پر ۱۶۷/۳ میں ۱۶۷ مجموعی رنز اور ۳ وکٹیں شامل ہیں، جبکہ ۱۶۷/۹ میں وہی رنز کہیں زیادہ خطرناک صورت حال دکھاتے ہیں۔ اگر اسکور ۱۶۷/۳ ۲۲ اوورز میں ہو تو رفتار بھی ساتھ دیکھنی ہوگی، کیونکہ عدد اکیلا ٹیم کی طاقت نہیں بتاتا۔

اسکورکارڈ میں بیٹر کے نام کے ساتھ رنز اور گیندیں لکھی ہوتی ہیں، مثلاً ۶۴ رنز، ۴۸ گیندیں، ۵ چوکے اور ۲ چھکے۔ یہاں ۶۴ بیٹر کا انفرادی اسکور ہے، ۴۸ گیندیں اس کی رفتار بتاتی ہیں، اور چوکے چھکے رنز بنانے کے طریقے کی وضاحت کرتے ہیں۔ اسٹرائیک ریٹ کا فارمولا ہے: رنز ÷ گیندیں × ۱۰۰؛ ۶۴ رنز ۴۸ گیندوں پر ہوں تو اسٹرائیک ریٹ ۱۳۳٫۳۳ بنتا ہے۔ تاہم ٹیسٹ میں ۶۴ رنز ۱۴۰ گیندوں پر بھی قیمتی ہوسکتے ہیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں یہی رفتار کم سمجھی جاسکتی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے قوانین میں رن، وکٹ، نو بال اور وائیڈ کو الگ واقعات مانا جاتا ہے، اس لیے اضافی رنز کو بیٹر کے ذاتی اسکور میں شامل نہ کریں۔

  • ۱۶۷/۳: تین وکٹیں گر چکی ہیں، سات بیٹر باقی ہیں۔
  • ۱۶۷/۹: آخری وکٹ باقی ہے، اس لیے مجموعہ دفاع کے لیے کمزور ہوسکتا ہے۔
  • ۱۶۷/۳، ۲۲ اوورز: رفتار بلند ہے، مگر وکٹیں بھی بچی ہوئی ہیں۔
  • ۱۶۷/۳، ۴۰ اوورز: ٹیم کو آخری دس اوورز میں محتاط حملہ درکار ہوگا۔

اس حصے میں ایک کم دیکھی جانے والی بات بھی سمجھیں: ایکسٹرا رنز ٹیم کے مجموعے میں شامل ہوتے ہیں، مگر بیٹر کے اسکور میں نہیں۔ اگر پاکستان ۲۵۰/۶ بنائے اور ایکسٹرا ۱۴ ہوں، تو بیٹرز کے ذاتی رنز کا مجموعہ ۲۳۶ ہوگا۔ اسی فرق سے اسکورکارڈ کی جمع درست پڑتال کی جاسکتی ہے۔ نو بال پر اضافی رن کے ساتھ فری ہٹ مل سکتی ہے، جبکہ وائیڈ گیند بیٹر کے اسکور میں نہیں بڑھتی؛ یہ چھوٹا فرق شرط یا براہِ راست میچ تجزیے میں بڑا اثر ڈال دیتا ہے۔ اس لیے پہلے ٹیم کا مجموعہ، پھر ایکسٹرا، پھر بیٹرز کے رنز دیکھیں، ورنہ آپ غلطی سے ۱۴ رنز دوبارہ شمار کرسکتے ہیں۔

اعداد کی عملی تشریح مزید سمجھنے کے لیے یہ متعلقہ مواد دیکھیں۔

مزید جانیں

دوسرا مرحلہ: اوورز، رن ریٹ اور مطلوبہ رفتار کیا بتاتی ہے؟

اوورز گیندوں کی پیش رفت بتاتے ہیں، رن ریٹ بیٹنگ کی رفتار، اور مطلوبہ رن ریٹ تعاقب کی ضرورت واضح کرتا ہے۔ ۱۰٫۳ اوورز کا مطلب ۱۰ اوور اور ۳ گیندیں ہے، ۱۰ اعشاریہ ۳ اوور نہیں؛ کرکٹ میں ہر اوور ۶ قانونی گیندوں کا ہوتا ہے۔ یہ فرق خاص طور پر آخری اوورز میں نتیجہ بدل دیتا ہے۔

اگر بھارت نے ۲۰ اوورز میں ۱۸۰/۶ بنائے تو اس کا رن ریٹ ۹ فی اوور ہے۔ جواب میں پاکستان کو ۱۸۱ رنز درکار ہیں؛ ۱۰ اوورز باقی ہوں تو مطلوبہ رن ریٹ ۱۸۱ ÷ ۱۰، یعنی ۱۸٫۱ فی اوور ہوگا۔ اگر ۱۵ اوورز کے بعد اسکور ۱۳۵/۴ ہے تو ۵ اوورز میں ۴۶ رنز درکار ہیں، یعنی ۹٫۲ فی اوور۔ اس حساب میں وکٹیں اتنی ہی اہم ہیں: ۶ وکٹیں باقی ہوں تو جارحانہ شاٹس ممکن ہیں، مگر ۲ وکٹیں باقی ہوں تو وہی شرح بہت خطرناک ہوجاتی ہے۔ ویکیپیڈیا کے کرکٹ اسکورکارڈ تعارف میں بھی مجموعی اسکور اور وکٹوں کو ایک ہی بنیادی اظہار میں پڑھنے کی وضاحت ملتی ہے۔

  • موجودہ رن ریٹ: اب تک کے رنز ÷ مکمل اوورز۔
  • مطلوبہ رن ریٹ: باقی رنز ÷ باقی اوورز۔
  • فتح کا فرق: جیتنے والی ٹیم کے رنز یا باقی وکٹیں۔
  • ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ: بارش سے متاثرہ محدود اوورز کے میچ میں نظرثانی شدہ ہدف۔

بارش والے میچ میں پرانا ہدف دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔ ڈک ورتھ لوئس اسٹرن طریقہ اوورز اور دستیاب وکٹوں کے وسائل کی بنیاد پر نیا ہدف بناتا ہے؛ اسی وجہ سے ۲۰ اوورز کا ابتدائی ہدف بعد میں ۱۴ اوورز کے لیے بالکل مختلف ہوسکتا ہے۔ ایک عملی کنارے کی بات سن لیں: اسکورکارڈ میں “ضروری رن” اور “مطلوبہ رن ریٹ” الگ خانوں میں ہوں تو پہلے باقی گیندوں کی تعداد خود گنیں، پھر فراہم کردہ شرح سے ملائیں۔ کبھی کبھی براہِ راست نشریات میں تاخیر یا وکٹ کے بعد اپ ڈیٹ کی وجہ سے ایک گیند کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ ایسی صورت میں آخری قانونی گیند اور جرمانہ رنز کو بنیاد بنائیں، نہ کہ پرانے گرافک کو۔

ٹی ٹوئنٹی میچ میں موبائل اسکورکارڈ پر مطلوبہ رن ریٹ، باقی اوورز اور وکٹیں نمایاں

تیسرا مرحلہ: ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کیا فرق ہے؟

ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ایک ہی اسکور مختلف معنی رکھتا ہے، کیونکہ ٹیسٹ میں وقت اور دو اننگز، ون ڈے میں ۵۰ اوورز، اور ٹی ٹوئنٹی میں ۲۰ اوورز فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس لیے فارمیٹ پہچانے بغیر اسکور کو اچھا یا برا کہنا درست نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے شائقین عموماً جلدی میں غلط نتیجہ نکالتے ہیں۔

ٹیسٹ اسکورکارڈ میں “اننگز” الگ الگ لکھی جاتی ہیں، مثلاً پاکستان ۳۸۰ اور ۲۲۰/۵، جبکہ آسٹریلیا ۳۱۰؛ یہاں پاکستان کو پہلی اننگز میں ۷۰ رنز کی برتری حاصل ہے اور دوسری اننگز جاری ہے۔ ون ڈے میں ۳۲۰/۸ ایک مکمل ۵۰ اوور کا مجموعہ ہوسکتا ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں ۱۸۰/۷ اکثر مضبوط مگر لازماً ناقابلِ شکست ہدف نہیں ہوتا۔ ٹیسٹ میں ڈرا کا امکان رہتا ہے، ون ڈے میں بارش کے باعث نظرثانی شدہ ہدف آسکتا ہے، اور ٹی ٹوئنٹی میں ایک اوور کا ۱۸ رنز کا دھماکہ پورا میچ پلٹ سکتا ہے۔ ایم سی سی کے کرکٹ قوانین کے مطابق قانونی گیند، نو بال اور وائیڈ کی تعریفیں اسکور کی درست گنتی کے لیے بنیادی ہیں۔

فارمیٹ کے مطابق فوری چیک لسٹ:

  1. ٹیسٹ: اننگز، برتری، فالو آن، باقی وکٹیں اور میچ کا دن دیکھیں۔
  2. ون ڈے: ۵۰ اوور، مطلوبہ رن ریٹ، پاور پلے اور بارش کا اثر دیکھیں۔
  3. ٹی ٹوئنٹی: ۲۰ اوور، آخری ۵ اوور، ڈیتھ اوور کی رفتار اور وکٹیں دیکھیں۔

ایک مفید مگر کم بیان کیا جانے والا فرق پارٹنرشپ ہے۔ ۹۰ رنز کی شراکت ۱۲۰/۵ سے ۲۱۰/۵ تک لے جائے تو صرف مجموعہ نہیں بڑھتا، دباؤ بھی بدلتا ہے؛ دوسری طرف ۳۰ رنز کی شراکت کے بعد دو وکٹیں جلد گر جائیں تو اسکور کی ظاہری مضبوطی ختم ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بولر کے اعداد ۴ اوور، ۲۸ رنز، ۲ وکٹیں ہوں تو اس کا اکانومی ریٹ ۷ ہے، مگر وکٹوں کا وقت بھی اہم ہے۔ پاور پلے میں ۷ رنز فی اوور اور ڈیتھ اوور میں ۷ رنز فی اوور برابر نہیں سمجھے جاتے، کیونکہ آخری مرحلے میں فیلڈ پابندیاں اور بیٹنگ وسائل بدل چکے ہوتے ہیں۔ کرکٹ شائق کے میچ جائزوں میں اسی لیے اسکور کے ساتھ مرحلہ، شراکت اور وکٹ گرنے کا وقت بھی دیکھا جاتا ہے۔

کسی مخصوص مقابلے کے اعداد پر گہری نظر ڈالنے کے لیے یہ معلوماتی راستہ اختیار کریں۔

مزید جانیں

آخری اسکور اور کس کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے؟

حتمی فیصلہ کرنے کے لیے اسکور، وکٹیں، باقی گیندیں، مطلوبہ رن ریٹ اور میچ کا فارمیٹ ایک ساتھ پڑھیں۔ اگر ہدف ۱۸۱ ہے، ۱۰ اوور باقی ہیں، مطلوبہ شرح ۱۸٫۱ ہے اور صرف ۲ وکٹیں باقی ہیں تو تعاقب عددی طور پر ممکن، مگر عملی طور پر مشکل ہے۔ اگر یہی ہدف ۱۰ اوور میں ۸ وکٹوں کے ساتھ درکار ہو تو میچ زیادہ کھلا ہوا ہے۔

ابتدائی شائقین پہلے یہ چار سوال لکھیں: ٹیم کا مجموعہ کیا ہے؟ کتنی وکٹیں گری ہیں؟ کتنے اوور یا گیندیں باقی ہیں؟ جیتنے کے لیے کتنے رنز فی اوور چاہییں؟ تجربہ کار شائقین اس کے بعد ایکسٹرا، شراکت، ڈاٹ گیندیں، پاور پلے اور بولر کی آخری اسپیل دیکھیں۔ جوا یا مالی فیصلہ صرف اسکور کے ایک لمحاتی گرافک پر نہ رکھیں؛ لائیو اعداد میں تاخیر، بارش، پچ کی رفتار اور پلیئنگ الیون کا اثر ہوسکتا ہے۔ عمر کی قانونی حد، مقامی قوانین اور ذمہ دارانہ کھیل کے اصول ہر حال میں مقدم ہیں، اور نقصان پورا کرنے کے لیے رقم بڑھانا سمجھ داری نہیں۔

مختصر نتیجہ:

  • ۱۶۷/۳ میں مجموعہ اور وکٹوں کی حفاظت دونوں دیکھیں۔
  • ۱۰٫۳ اوور کو ۱۰٫۳ اعشاریہ نہ سمجھیں؛ یہ ۱۰ اوور اور ۳ گیندیں ہیں۔
  • ہدف کے ساتھ مطلوبہ رن ریٹ ضرور نکالیں۔
  • ٹیسٹ میں اننگز، ون ڈے میں ۵۰ اوور، ٹی ٹوئنٹی میں ۲۰ اوور یاد رکھیں۔
  • نو بال، وائیڈ اور بائی کو بیٹر کے ذاتی رنز میں شامل نہ کریں۔
  • آخری فیصلہ تازہ، قانونی گیند کے بعد اپ ڈیٹ ہونے والے اسکور پر کریں۔

کرکٹ شائق کا سیدھا مشورہ یہی ہے: اسکورکارڈ کو ایک کہانی کی طرح پڑھیں، مگر جذبات سے نہیں، ترتیب سے۔ پہلے فارمیٹ، پھر مجموعہ، پھر وکٹیں، پھر وقت اور آخر میں مطلوبہ رفتار؛ یہی پانچ قدم آپ کو پاکستان بمقابلہ بھارت، افغانستان کے مقابلوں یا پی ایس ایل کے کسی بھی سنسنی خیز تعاقب میں غلط فہمی سے بچائیں گے۔ اگر کوئی عدد غیر معمولی لگے تو اصل اسکورکارڈ، میچ کی تاریخ اور مقابلے کی صورت حال دوبارہ دیکھیں۔

مزید میچ تجزیوں اور اسکور کی تشریح کے لیے کرکٹ شائق سے جڑے رہیں۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ اسکور میں ۱۶۷/۳ کا کیا مطلب ہے؟

جواب: ۱۶۷/۳ کا مطلب ہے کہ ٹیم نے ۱۶۷ رنز بنائے اور ۳ وکٹیں کھو دی ہیں۔ باقی ۷ وکٹیں موجود ہوتی ہیں، مگر محدود اوورز کے میچ میں دستیاب گیندیں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اگر یہی اسکور ۲۰ اوورز کے اختتام پر ہو تو ٹی ٹوئنٹی میں اس کی تشریح مختلف ہوگی، جبکہ ۳۵ اوورز پر یہی رفتار مزید رنز کی گنجائش دکھاتی ہے۔

سوال: ۱۰٫۳ اوورز کو صحیح طرح کیسے پڑھیں؟

جواب: ۱۰٫۳ اوورز کا مطلب ۱۰ مکمل اوور اور ۳ قانونی گیندیں ہے، نہ کہ ۱۰٫۳ اعشاریہ اوور۔ چونکہ ایک اوور میں ۶ گیندیں ہوتی ہیں، اس لیے ۱۰٫۳ اوور کل ۶۳ گیندوں کے برابر ہیں۔ اس فرق سے مطلوبہ رن ریٹ اور باقی گیندوں کا حساب درست رہتا ہے، خاص طور پر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے آخری مرحلے میں۔

سوال: رن ریٹ اور مطلوبہ رن ریٹ میں کیا فرق ہے؟

جواب: رن ریٹ اب تک بنائے گئے رنز کی فی اوور رفتار ہے، جبکہ مطلوبہ رن ریٹ ہدف حاصل کرنے کے لیے باقی اوورز میں درکار رفتار ہے۔ ۱۵ اوورز میں ۱۳۵ رنز کا موجودہ رن ریٹ ۹ ہے، لیکن ۱۸۱ کے ہدف کے لیے آخری ۵ اوورز میں ۹٫۲ رنز فی اوور درکار ہوں گے۔ دونوں شرحوں کا فرق تعاقب کا دباؤ بتاتا ہے۔

سوال: اسکورکارڈ میں اضافی رنز کہاں دکھائے جاتے ہیں؟

جواب: اضافی رنز عموماً وائیڈ، نو بال، بائی اور لیگ بائی کے الگ خانے میں دکھائے جاتے ہیں۔ یہ ٹیم کے مجموعے میں شامل ہوتے ہیں، مگر بیٹر کے ذاتی رنز میں نہیں بڑھتے۔ اگر ایکسٹرا ۱۴ ہوں تو ٹیم کے مجموعے اور تمام بیٹرز کے رنز کے مجموعے میں ۱۴ رنز کا فرق ہوسکتا ہے؛ جمع کی پڑتال کے لیے یہی بنیادی نشان ہے۔

سوال: ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکور میں بڑا فرق کیا ہے؟

جواب: ٹیسٹ میں فی ٹیم دو اننگز اور پانچ دن تک کا وقت ہوتا ہے، ون ڈے میں فی ٹیم زیادہ سے زیادہ ۵۰ اوور، اور ٹی ٹوئنٹی میں ۲۰ اوور ہوتے ہیں۔ ٹیسٹ میں برتری اور فالو آن اہم ہیں، ون ڈے میں ہدف اور بارش کا اثر، جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں گیند بہ گیند رفتار زیادہ فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اس لیے ایک ہی مجموعہ تینوں فارمیٹس میں یکساں طاقت نہیں رکھتا۔

سوال: اگر اسکور اپ ڈیٹ نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: پہلے تازہ قانونی گیند، اوور نمبر اور آخری وکٹ کی تصدیق کریں، پھر معتبر اسکورکارڈ دوبارہ کھولیں۔ براہِ راست نشریات میں چند سیکنڈ یا ایک گیند کی تاخیر ممکن ہے، خاص طور پر نو بال، وائیڈ یا فیصلہ زیرِ نظر ہونے کے بعد۔ ای ایس پی این کرک انفو یا بین الاقوامی کرکٹ کونسل جیسے معتبر ماخذ سے مجموعہ، وکٹیں اور مطلوبہ رن ریٹ ملا کر دیکھیں۔

سوال: کرکٹ اسکور سمجھنے کے لیے کون سی معلومات پہلے یاد کرنی چاہییں؟

جواب: پہلے رنز، وکٹیں، اوورز، مطلوبہ رنز اور مطلوبہ رن ریٹ یاد کریں؛ یہی پانچ اعداد زیادہ تر میچ صورت حال واضح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد ایکسٹرا، شراکت، اسٹرائیک ریٹ اور بولر کا اکانومی ریٹ شامل کریں۔ روزانہ ایک مکمل اسکورکارڈ میں بیٹر، بولر اور اوور کے اعداد کو باہم ملا کر دیکھنے سے سمجھ تیزی سے پختہ ہوجاتی ہے۔

§
❦

کرکٹ شائق · Editorial Archive · No. 01

متعلقہ مضامین