2026 کرکٹ امپائر کے اشارے: 12 اہم نشانیاں
کرکٹ امپائر کے اشارے کھیل کے فیصلوں کو فوری، واضح اور سب کے لیے قابلِ فہم بناتے ہیں۔ میدان میں موجود امپائر، ٹی وی ناظرین، اسکورر، کھلاڑی اور تماشائی ہاتھ کے اشاروں سے جان لیتے ہیں کہ گیند نو بال ہے،....
2026 کرکٹ امپائر کے اشارے: 12 اہم نشانیاں
کرکٹ امپائر کے اشارے کھیل کے فیصلوں کو فوری، واضح اور سب کے لیے قابلِ فہم بناتے ہیں۔ میدان میں موجود امپائر، ٹی وی ناظرین، اسکورر، کھلاڑی اور تماشائی ہاتھ کے اشاروں سے جان لیتے ہیں کہ گیند نو بال ہے، وائیڈ دی گئی ہے، بلے باز آؤٹ ہوا ہے یا باؤنڈری لگی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل، یعنی آئی سی سی، اور میریلی بون کرکٹ کلب، یعنی ایم سی سی، کے قوانین کے مطابق انگلی اٹھانا آؤٹ، دونوں بازو پھیلانا وائیڈ، جبکہ ایک بازو سیدھا اوپر کرنا نو بال کی علامت ہے۔ ڈی آر ایس کے بعد امپائر کا اصل فیصلہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے، مگر اشارہ ہمیشہ باضابطہ طور پر دیا جاتا ہے۔ 2017 کے کرکٹ قوانین میں باؤنڈری، بائی، لیگ بائی اور ڈیڈ بال کے لیے بھی الگ اشارے مقرر ہیں۔ میچ دیکھتے وقت پہلے اشارہ پہچانیں، پھر اسکور بورڈ پر تصدیق کریں۔

اگر آپ بنیادی قوانین کو تیزی سے سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ مختصر رہنمائی محفوظ کرلیں۔
مرحلہ 1: آؤٹ کا اشارہ کیسے پہچانیں؟
آؤٹ کا بنیادی اشارہ امپائر کا ایک ہاتھ سیدھا اوپر اٹھا کر شہادت کی انگلی دکھانا ہے؛ یہی اشارہ کیچ، ایل بی ڈبلیو، بولڈ، اسٹمپنگ یا رن آؤٹ کے فیصلے کے بعد دیا جا سکتا ہے۔ تاہم صرف انگلی اٹھنے سے آؤٹ کی قسم معلوم نہیں ہوتی، اس لیے اسکورر کو فیصلہ درج کرنے کے لیے امپائر کے زبانی اعلان یا اسکور بورڈ کی تفصیل دیکھنی چاہیے۔ آئی سی سی کے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 مقابلوں میں یہ اشارہ یکساں بنیادی معنی رکھتا ہے، چاہے میچ لاہور، ممبئی یا لندن میں ہو۔ اگر فیلڈنگ ٹیم اپیل کرے اور امپائر انگلی نہ اٹھائے تو بلے باز ناٹ آؤٹ رہتا ہے، مگر ریویو کی صورت میں تھرڈ امپائر فیصلہ بدل سکتا ہے۔ ایم سی سی کے قوانین کے مطابق امپائر کو فیصلہ واضح انداز میں دینا ہوتا ہے، جلد بازی میں نہیں؛ یہی وجہ ہے کہ معمولی شور یا کھلاڑیوں کے احتجاج سے اشارے کا قانونی مطلب تبدیل نہیں ہوتا۔ کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون کی مکمل وضاحت
آؤٹ کے اشارے کو سمجھنے کے لیے یہ ترتیب یاد رکھیں:
- اپیل مکمل ہونے دیں۔
- امپائر کی انگلی یا ہاتھ کی سمت دیکھیں۔
- اسکور بورڈ پر آؤٹ کی قسم چیک کریں۔
- ڈی آر ایس دستیاب ہو تو ریویو کی علامت کا انتظار کریں۔
کیچ، ایل بی ڈبلیو اور رن آؤٹ میں فرق
کیچ میں گیند زمین کو چھوئے بغیر فیلڈر کے قابو میں آتی ہے، ایل بی ڈبلیو میں گیند کا بلے باز کی ٹانگ سے ٹکرانا اور قوانین کی دیگر شرائط دیکھی جاتی ہیں، جبکہ رن آؤٹ میں کریز سے باہر موجود بلے باز کی وکٹ گیند سے توڑی جاتی ہے۔ امپائر تینوں صورتوں میں عموماً انگلی اٹھاتا ہے، اس لیے اصل فرق واقعے اور اسکورر کے اندراج سے سمجھا جاتا ہے۔ کرکٹ شائقین اکثر یہاں غلطی کرتے ہیں؛ اشارہ فیصلہ بتاتا ہے، آؤٹ کی مکمل وجہ نہیں۔
مرحلہ 2: نو بال اور فری ہٹ کو کیسے سمجھیں؟
نو بال کا اشارہ امپائر کا ایک بازو کندھے کی سطح پر سیدھا ایک طرف پھیلانا ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ قانونی گیند نہیں ہوئی۔ نو بال کی عام وجوہات میں فرنٹ فٹ کا کریز سے آگے نکلنا، کمر سے اوپر خطرناک فل ٹاس، مخصوص حد سے زیادہ باؤنسر، یا فیلڈنگ پابندی کی خلاف ورزی شامل ہو سکتی ہے۔ ٹی20 اور ون ڈے کرکٹ میں نو بال کے بعد فری ہٹ کا امکان خاص اہمیت رکھتا ہے، مگر ہر نو بال کے بعد فری ہٹ نہیں ہوتی؛ یہ مقابلے کے قانون اور نو بال کی وجہ پر منحصر ہے۔ امپائر پہلے نو بال کا اشارہ دیتا ہے، پھر اسکورر ایک اضافی رن درج کرتا ہے، جبکہ بلے سے حاصل رنز الگ شمار ہوتے ہیں۔ آئی سی سی کے موجودہ کھیلنے کے ضوابط میں فرنٹ فٹ نو بال کی نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی استعمال ہو سکتی ہے، خاص طور پر بڑے عالمی مقابلوں میں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضوابط میں گیند کی قانونی حیثیت اور فری ہٹ کا طریقہ مقابلے کے مطابق درج ہوتا ہے۔
“نو بال اس وقت ہوتی ہے جب گیند کرکٹ کے قانون کے مطابق قانونی ترسیل نہ ہو۔” — میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین کا مفہوم
نو بال دیکھتے ہوئے یہ باتیں نوٹ کریں:
- بازو ایک طرف پھیلا ہو تو نو بال ہے۔
- ایک رن خودکار طور پر اضافی شمار ہوتا ہے۔
- فری ہٹ کا نشان اسکور بورڈ پر الگ دکھایا جا سکتا ہے۔
- ڈی آر ایس نو بال اور وکٹ کے تعلق کی دوبارہ جانچ کر سکتا ہے۔

کھیل کے پیچیدہ فیصلوں اور تازہ کرکٹ تجزیوں کے لیے کرکٹ شائق کی روزانہ کوریج دیکھیں۔
مرحلہ 3: وائیڈ، بائی اور لیگ بائی کے اشارے کیا ہیں؟
وائیڈ کا اشارہ دونوں بازوؤں کو کندھوں کی سطح پر مکمل طور پر پھیلانا ہے، جبکہ بائی اور لیگ بائی کے لیے امپائر عموماً ایک بازو سر کے اوپر اٹھا کر بائی یا ٹانگ کو چھونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وائیڈ اس وقت دی جاتی ہے جب گیند بلے باز کی معمول کی پہنچ سے باہر گزرے اور مقررہ مقابلے کے معیار کے مطابق قانونی شاٹ کا امکان نہ ہو؛ ٹی20 میں وائیڈ کی حد پچ، بلے باز کی حرکت اور کھیلنے کی شرائط سے متاثر ہو سکتی ہے۔ بائی میں گیند نہ بلے سے لگتی ہے نہ جسم سے، جبکہ لیگ بائی میں گیند بلے سے نہ لگ کر جسم سے ٹکراتی ہے اور بلے باز نے شاٹ کھیلنے یا بچنے کی حقیقی کوشش کی ہو۔ دونوں صورتوں میں رنز ٹیم کے مجموعے میں شامل ہوتے ہیں، مگر بلے باز کے ذاتی رنز میں نہیں۔ بائی اور لیگ بائی رنز سمجھنے کی رہنمائی
یہ فرق اسکور کارڈ میں خاصا اہم ہے، خصوصاً پاکستان سپر لیگ، آئی پی ایل اور آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ جیسے مقابلوں میں جہاں ایک اضافی رن بھی نیٹ رن ریٹ بدل سکتا ہے۔ اگر گیند وکٹ کیپر سے نکل کر باؤنڈری تک پہنچے تو وائیڈ یا بائی کے ساتھ چار اضافی رنز درج ہو سکتے ہیں؛ اسکورر کو امپائر کے اشارے اور گیندوں کی تعداد دونوں درست لکھنی ہوتی ہیں۔ وائیڈ گیند اوور کی چھ قانونی گیندوں میں شامل نہیں ہوتی، یہی وہ نکتہ ہے جسے نئے ناظرین اکثر نظرانداز کردیتے ہیں۔ ایم سی سی کے قانون 22 میں وائیڈ کے اصول بیان کیے گئے ہیں، جبکہ بائی اور لیگ بائی قانون 23 کے تحت آتے ہیں۔ میریلی بون کرکٹ کلب کی قوانین کی کتاب میں ان اشاروں کی باقاعدہ تشریح موجود ہے۔
مرحلہ 4: باؤنڈری اور ڈیڈ بال کا اشارہ کب دیا جاتا ہے؟
باؤنڈری کے لیے امپائر دونوں بازوؤں کو سر کے اوپر افقی انداز میں دائرہ بناتے ہوئے گھماتا ہے، جبکہ چوکا بتانے کے لیے دونوں بازو ایک طرف پھیلا کر مخصوص انداز اختیار کیا جاتا ہے اور چھکے کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔ عملی نشریات میں کیمرے کا زاویہ، اسکور گرافکس اور امپائر کا اشارہ ایک ساتھ دیکھنا بہتر ہے، کیونکہ چوکا اور چھکا دور سے کبھی ایک جیسے دکھائی دے سکتے ہیں۔ ڈیڈ بال کے لیے امپائر عموماً دونوں ہاتھ کمر کے سامنے کراس کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گیند کھیل میں نہیں رہی۔ یہ اشارہ گیند کے زمین میں پھنسنے، بلے باز کے زخمی ہونے، خطرناک رویے، امپائر کی مداخلت یا کسی غیر معمولی رکاوٹ کے بعد دیا جا سکتا ہے۔
“ڈیڈ بال کے دوران گیند کھیل میں نہیں سمجھی جاتی۔” — میریلی بون کرکٹ کلب کے قانون 20 کا مفہوم
باؤنڈری کے فیصلے میں رسی کو چھونا، فیلڈر کا ہوا میں ہونا، گیند کا باڑ سے ٹکرانا اور اوور تھرو شامل عوامل دیکھے جاتے ہیں۔ ڈی آر ایس ہر باؤنڈری فیصلے کے لیے خودکار طور پر استعمال نہیں ہوتا؛ ٹی وی امپائر کو ری پلے، فیلڈر کے قدم اور گیند کے رابطے کے شواہد درکار ہوتے ہیں۔ 2023 کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں کچھ مقابلوں نے باؤنڈری کیچ کے لیے اضافی ری پلے زاویے بھی استعمال کیے، مگر حتمی طریقہ مقابلے کی کھیلنے کی شرائط طے کرتی ہیں۔ اس لیے صرف تماشائیوں کے شور پر نہیں، باضابطہ اشارے پر اعتماد کریں۔

اگر باؤنڈری یا ڈیڈ بال کے فرق میں الجھن ہو تو یہ متعلقہ وضاحت بھی دیکھیں۔
مرحلہ 5: اشارے کی تصدیق کیسے کریں؟
امپائر کے اشارے کی درست تصدیق کے لیے پہلے ہاتھ کی حرکت، پھر گیند کی نوعیت، اور آخر میں اسکور بورڈ یا ٹی وی گرافکس دیکھیں۔ میدان میں موجود کھلاڑی فوری طور پر اشارہ دیکھتے ہیں، مگر ناظرین کو ری پلے اور تھرڈ امپائر کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے، خاص طور پر کیچ، رن آؤٹ، اسٹمپنگ اور باؤنڈری کے معاملات میں۔ ڈی آر ایس میں آن فیلڈ امپائر کا ابتدائی فیصلہ برقرار، تبدیل یا “امپائرز کال” قرار دیا جا سکتا ہے؛ آخری صورت میں اصل فیصلہ قائم رہتا ہے، اگرچہ ٹریکنگ یا بال پاتھ کا نتیجہ قریب ہو۔ کرکٹ شائق کے میچ جائزوں میں اسکور کارڈ، وکٹ کی وجہ، اضافی رنز اور ریویو نتیجہ الگ الگ دیکھنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔ آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹس میں ہاک آئی، الٹرا ایج اور اسنوکو جیسے نظام دستیاب ہو سکتے ہیں، لیکن ہر لیگ یا مقامی میچ میں تمام ٹیکنالوجی موجود نہیں ہوتی۔ یہی عملی فرق ٹی20، ون ڈے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے درمیان فیصلہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
تصدیق کے لیے یہ چار نکاتی طریقہ اپنائیں:
- امپائر کا ابتدائی اشارہ نوٹ کریں۔
- اسکورر کی اضافی رنز والی لائن دیکھیں۔
- ریویو ہو تو تھرڈ امپائر کا نتیجہ سنیں۔
- میچ قوانین کے مطابق آخری فیصلہ قبول کریں۔
عام غلط اشاروں اور فیصلوں کی خرابی کیسے دور کریں؟
عام غلطی اس وقت ہوتی ہے جب ناظر وائیڈ کے دونوں بازوؤں کو باؤنڈری کا اشارہ سمجھ لیتا ہے، یا نو بال کے بعد ہر گیند کو لازماً فری ہٹ تصور کرتا ہے۔ دوسری بڑی غلطی آؤٹ کی انگلی دیکھ کر فوراً کیچ سمجھنا ہے، حالانکہ وہی اشارہ ایل بی ڈبلیو، بولڈ کے بعد بھی استعمال ہوتا ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ اشارے کو گیند کے واقعے، اسکور کارڈ اور مقابلے کے ضابطے کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔ مثال کے طور پر اگر گیند بلے سے نہ لگی اور چار رنز بن گئے تو اسے فوراً چوکا نہ لکھیں؛ یہ بائی یا لیگ بائی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر فرنٹ فٹ نو بال کے بعد وکٹ گرے تو پہلے نو بال کا فیصلہ اہم ہوگا، پھر وکٹ کی قانونی حیثیت دیکھی جائے گی۔ ڈی آر ایس اور تھرڈ امپائر کا طریقہ
مقامی کلب کرکٹ میں ایک اضافی پیچیدگی یہ ہے کہ بعض امپائر رسمی اشارہ کم واضح انداز میں دیتے ہیں، جبکہ اسکورر زبانی اعلان پر انحصار کرتا ہے۔ ایسی صورت میں کپتان یا اسکورر کو اگلی گیند سے پہلے فیصلہ صاف طور پر پوچھ لینا چاہیے، مگر کھیل روکنے کا اختیار صرف امپائر کے پاس ہے۔ آئی سی سی کے بین الاقوامی میچ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے مقامی مقابلے ایک جیسے ضابطوں پر مبنی ہو سکتے ہیں، لیکن ٹیکنالوجی، ریویو کی تعداد اور کھیلنے کی شرائط مختلف رہتی ہیں۔ اس لیے کسی وائرل مختصر ویڈیو کو مکمل قانون نہ سمجھیں؛ اصل قانون، میچ کی شرائط اور امپائر کا آخری اعلان تین الگ چیزیں ہیں۔ یہی محتاط عادت غلط اسکور، غیر ضروری بحث اور کھلاڑیوں کے احتجاج سے بچاتی ہے۔

مزید قابلِ اعتماد کرکٹ قوانین، اسکورنگ اور حکمت عملی کے لیے کرکٹ شائق کی تازہ تحریریں پڑھیں۔
خلاصہ: بارہ بنیادی اشارے ایک نظر میں
کرکٹ امپائر کے اشارے یاد کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں تین گروہوں میں تقسیم کریں: فیصلہ، اضافی رنز اور کھیل کی حالت۔ انگلی اوپر آؤٹ، ایک بازو اوپر نو بال، دونوں بازو پھیلے وائیڈ، سر کے اوپر دونوں ہاتھ چھکا، ایک طرف بازو چوکا، اور ہاتھ کراس ڈیڈ بال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بائی اور لیگ بائی کے اشارے میں بازو سر کے اوپر جاتا ہے، مگر اسکورنگ کی وجہ گیند کے بلے یا جسم سے رابطے کے مطابق بدلتی ہے۔ ایم سی سی قوانین اور آئی سی سی کھیلنے کی شرائط بنیادی ڈھانچہ دیتے ہیں، جبکہ پی سی بی، آئی پی ایل اور پی ایس ایل اپنے مقابلوں کے مطابق ریویو اور ٹیکنالوجی کی تفصیل مقرر کر سکتے ہیں۔ اس لیے میچ دیکھتے وقت صرف ہاتھ نہیں، گیند، اسکور کارڈ اور ریویو گرافکس بھی دیکھیں۔ یہ چھوٹی سی عادت آپ کو نئے ناظر سے سمجھ دار کرکٹ فالوور بنا دیتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سوال: کرکٹ امپائر کے اشارے کیا ہوتے ہیں؟
جواب: کرکٹ امپائر کے اشارے ہاتھ اور بازو کی مخصوص حرکات ہیں جن سے فیصلہ، اضافی رنز یا گیند کی حالت بتائی جاتی ہے۔ انگلی اوپر کرنا آؤٹ، ایک بازو طرف پھیلانا نو بال، اور دونوں بازو پھیلانا وائیڈ کی علامت ہے۔ یہ اشارے آئی سی سی اور ایم سی سی کے قوانین کے تحت بین الاقوامی، قومی اور مقامی کرکٹ میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسکورر انہی اشاروں کی بنیاد پر اسکور کارڈ مکمل کرتا ہے۔
سوال: آؤٹ کا اشارہ کیسے پہچانا جاتا ہے؟
جواب: آؤٹ کے لیے امپائر ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر شہادت کی انگلی دکھاتا ہے۔ یہ اشارہ کیچ، ایل بی ڈبلیو، بولڈ، اسٹمپنگ یا رن آؤٹ سب کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے آؤٹ کی قسم الگ سے دیکھنی پڑتی ہے۔ اگر ڈی آر ایس لیا جائے تو تھرڈ امپائر ری پلے اور دستیاب ٹیکنالوجی سے فیصلہ جانچتا ہے۔ آخری فیصلہ اسکور بورڈ یا امپائر کے اعلان سے تصدیق کریں۔
سوال: نو بال اور وائیڈ میں کیا فرق ہے؟
جواب: نو بال میں ایک بازو ایک طرف پھیلایا جاتا ہے، جبکہ وائیڈ میں دونوں بازو پھیلائے جاتے ہیں۔ نو بال پاؤں، خطرناک فل ٹاس یا فیلڈنگ قانون کی خلاف ورزی سے ہو سکتی ہے، جبکہ وائیڈ عموماً بلے باز کی معمول کی پہنچ سے باہر گیند پر دی جاتی ہے۔ دونوں میں ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند اوور کی چھ قانونی گیندوں میں شامل نہیں ہوتی۔ نو بال کے بعد فری ہٹ کا اطلاق مخصوص حالات اور مقابلے کے قوانین پر منحصر ہے۔
سوال: بائی اور لیگ بائی کا اشارہ کیسے سمجھیں؟
جواب: بائی اس وقت ہوتی ہے جب گیند نہ بلے سے لگے نہ جسم سے، جبکہ لیگ بائی میں گیند بلے کے بجائے جسم سے ٹکراتی ہے۔ دونوں کے رنز ٹیم کے مجموعے میں شامل ہوتے ہیں، مگر بلے باز کے ذاتی رنز نہیں بڑھاتے۔ لیگ بائی کے لیے امپائر عموماً ٹانگ یا جسم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ اسکورر گیند کے واقعے کے مطابق اندراج کرتا ہے۔ ایم سی سی قانون 23 ان رنز کے بنیادی اصول بیان کرتا ہے۔
سوال: ڈیڈ بال کا اشارہ کب دیا جاتا ہے؟
جواب: ڈیڈ بال کا اشارہ اس وقت دیا جاتا ہے جب گیند کھیل میں نہ رہے یا فوری طور پر کھیل جاری رکھنا ممکن نہ ہو۔ امپائر دونوں ہاتھ کمر کے سامنے کراس کر سکتا ہے، مثلاً بلے باز کے زخمی ہونے، گیند کے زمین میں پھنسنے، خطرناک صورتحال یا امپائر کی مداخلت پر۔ ڈیڈ بال کے دوران بننے والے رنز عموماً شمار نہیں ہوتے، مگر قانون میں مخصوص استثنا موجود ہیں۔ اس لیے اسکورر کو اشارے کے ساتھ امپائر کا اعلان بھی سننا چاہیے۔
سوال: کیا امپائر کا فیصلہ ڈی آر ایس سے ہمیشہ تبدیل ہو جاتا ہے؟
جواب: نہیں، ڈی آر ایس سے فیصلہ صرف اس وقت تبدیل ہوتا ہے جب دستیاب شواہد اصل فیصلے کے برخلاف واضح ہوں۔ تھرڈ امپائر بال ٹریکنگ، الٹرا ایج، ری پلے اور فیلڈ کیمروں کا جائزہ لے سکتا ہے، مگر “امپائرز کال” کی صورت میں ابتدائی فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ ہر لیگ میں ریویو کی تعداد، ٹیکنالوجی اور درخواست کا وقت الگ ہو سکتا ہے۔ آئی سی سی کے بڑے مقابلوں میں نافذ کھیلنے کی شرائط حتمی معیار فراہم کرتی ہیں۔
سوال: کرکٹ امپائر کے اشارے یاد کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
جواب: اشاروں کو فیصلہ، رنز اور کھیل کی حالت کے تین گروہوں میں تقسیم کرکے یاد کریں۔ فیصلہ گروہ میں آؤٹ اور نو بال، رنز میں وائیڈ، بائی، لیگ بائی، چوکا اور چھکا، جبکہ حالت میں ڈیڈ بال اور ریویو شامل کریں۔ میچ دیکھتے ہوئے پہلے اشارہ پہچانیں، پھر اسکور گرافکس سے تصدیق کریں۔ چند میچوں کے بعد آئی سی سی، پی سی بی، پی ایس ایل اور آئی پی ایل کی نشریات میں یہ علامات خود بخود واضح ہونے لگیں گی۔
پڑھنے کے لیے شکریہ۔
کرکٹ شائق · Editorial Archive · No. 01